Aap beeti So lafzi afsana by Malik Aslam Hamshira
” آپ بیتی“ از قلم ملک اسلم ھمشیرا،اوچ شریف آج کل گرمیوں کی چھٹیاں قبر میں ٹانگیں لٹکا ٸ ے اپنی آخری سانسیں گن رھی ھیں اور ھم اساتذہ کرام ان کی اس حالتِ ذار پر ٹھنڈی سانسیں لے رھے ھیں ،کیونکہ گرمیوں کی چھٹیاں ھی ھماری عیاشی کا واحد ذریعہ ہوتی ھیں ،سارا دن سونا اور سو سو کر تھک جانا تو تھکن اتارنے کے لیے پھر سو جانا، ایک تو جب سے یہ کمبخت فیس بک آ ٸ ی ھے سونے جاگنےکا ٹا ٸ م ٹیبل بھی عجیب و غریب شکل اختیار کر چکا ھے،ابھی پرسوں کی بات ھےکہ علی الصبح 4بجے کسی ٹھرکی نے اپنی جانو مانو کے بُھلیکھے میں میرا نمبر ڈا ٸ ل فرما دیا اور جونہی میری جاگ ھو ٸ ی ،ھیلو کیا تو جواب ندارد٠٠٠ اتنے میں نماز کا وقت ھو گیا اور مسجد چلا گیا ،جوتی سرقہ ھونے کی فکر دوران نماز بالکل آڑے نہیں آ ٸ ی کیونکہ میں وہ پرانی سوفٹی پہن کے گیا تھا جو پا ٶ ں کے دبا ٶ پڑنے پر شوں شاں، شوں شاں کی سیٹی بجاتی ھے اور نماز کا وضو کر تے وقت یہ بھی اپنے حصے کا پانی نوش فرما لیتی ھےاور پانی سے اس کی آواز مزید دردناک ھو جاتی ھے ،لہذا اس کے مسجد سے چوری ھونے ...