Shafi se shafqat tak novel by Sameera Ishtiaq.
شاہ بانو کو ابھی تخت سے اُترے دیر نہ ہوئی تھی کہ لگاتار دو،تین فریادیں آئیں۔ مہرو کلبلاتی ہوئی کلہ مسلے جا رہی تھی کہ شفق نے کلے میں چکتا بھر لیا۔ ادھر پینو تڑپ اٹھی کہ شفق نے بہانے سے کمر میں دھموکا جڑ دیا۔ مینوچلا اٹھی تھی کہ انکے بالوں میں راکھ جھونک دی۔ غرض کہ شاہ ہانو الٹے پیر دوڑیں شفی کی خبر لینے کو ۰۰۰۰ ابھی تو پھوٹنے کو تھی کہ شفی گھر بھر میں دھم دھماتے پھرتے پھر رہے تھے۔شاہ بانو ہاتھ میں چپل تھامے میرو کے کمرے کی طرف لپکیں۔ جہاں سے میرو تلملاتی ہوئی غضب ناک ہو کر چلا رہی تھی ۰ شاہ اماں دیکھیں تو شفی نے میرا نیا دوپٹہ جھر جھرا کر ڈالا ۰۰ ہائے اللہ سکو کی منگنی کے لیے سینت سینت کے سوٹ اٹھا رکھا تھا ۰۰۰ کمبخت نے ناس کر ڈالا ۰۰ وہ دوپٹّے پر آدھے ٹوٹے آدھے لٹکتے تاروں کو بےبسی سے دیکھ کر چلائی۔۔۔ اور شفی دوپٹہ سر پر اوڑھے اچھل اچھل کر ناچ رہے تھے کہ شاہ اماں نے چپل سے وہ خبر لی کہ تڑپتے ہوئے اور شور کے ایک کونے میں پناہ لی ۰۰۰ اندر سے کھٹکا لگا لیا۔شاہ اماں غضبناک ہو کر چلاتی رہیں۔ اے اللہ تو نے ایک بیٹا دیا وہ بھی اتنا شریر کہ زہر فنا ۰۰۰ کمبخت سارا دن ...