Posts

Showing posts with the label Aasia Shaheen

Ain. Ishq by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

ع -عشق فو قیہ نے سلمان کو ملنے کے لیے کہا تو سلمان آج کل پر ٹا لنے لگا۔کیو نکہ وہ فو قیہ کو چا ہتا تو تھا مگر اس کی عزت پر کو ئی حرف نہ آئے اس لیے ملنے سے گر یزاں تھا۔وہ عنقر یب اس کے گھر شادی کا پیغام بھجوانہ چا ہتا تھا۔اور وہ یہ بھی جا نتا تھا کہ فو قیہ کے گھر والے بہت سخت طبعیت کے ہیں۔مگر آج اس کے بہت اسرار پر وہ اس سے ملنے کو نکل پڑا۔اس کے کالج کے با ہر وہ اس کے انتظار میں کھڑا تھا جب فو قیہ با ہر نکلی تو وہ اس کی طرف بڑ ھا۔اس نے سلام ہی کیا کہ فو قیہ نے بھا ئی کو آتے دیکھا تووہ سلمان کو تھپڑ مار کہ بو لی آ ئیندہ میرے پیچھے مت آنا ۔بھا ئی کے ہا تھو ں سلمان کی در گت بنوا کر گھر پہنچتے ہی سلمان کو سوری کا میسج کیا اور بو لی کہ میں اپنے او پر بات نہیں آنے دیتی۔

Munafqat by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
منا فقت!!!! سلمہ کی فا خرہ سے بہت اچھی جان پہچان تھی ۔آج بہت وقت کے بعد سلمہ اچا نک سے فا خرہ سے ملنے آئی جس پر فا خرہ کے پاؤں زمین پر نہ ٹک رہے تھے -سلمہ کی خوب خا طر کی وہ جا نے کے لیے اٹھتی تو فا خرہ اس کو بٹھا دیتی اسی طرح شام ہونے کو آئی میں ان دو نوں کا پیار دیکھ کر متاثر تھی۔پھر مغرب کے قریب سلمہ نے جانے کی اجازت چا ہی اس کے جا تے ہی فا خرہ گو یا ہوئی"اف کچھ لوگ کتنے پکاؤ ہو تے ہیں چپک ہی جاتے ہیں جا نے کا نام نہیں لیتے"اس کے بعد میں فا خرہ کے ہاں جا نے سے گر یزاں رہی۔ آسیہ شا ہین  

Samjhota by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image

Pagal larki by Aasia Shaheen (Poetry)

Image
پا گل لڑ کی ٢ "عجب پا گل سی لڑکی تھی عجب  الجھن میں رہتی تھی نمی   سی تہر تی تھی   جس کی آ نکھو ں میں وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی مجھے کب راس آ تی ہیں   خوشی کی سا عتیں آسی گلے کرتی جھگڑ  تی تھی کبھی نہ خوش وہ رہتی تھی محبت بھوت ہو جیسے وہ ایسے اس سے ڈرتی تھی اسے رغبت تھی کا نٹوں سے وہ پھو لوں کو مسلتی تھی عجب پا گل سی لڑ کی تھی عجب ویران سی لڑ کی" آسیہ شا ہین چکوال

Tamashai by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
تماشائی : "زندہ انسانوں کی حا لت آج کل مردا لوگوں سے بد تر ہو گئی ہے۔۔زندگی بد سکو نی کا دو سرا نام بن چکی ہے۔ہر دم یوں لگتا ہے کہ ابھی کے ابھی پاگل ہو جاؤں گا۔"فہد خود سے با تیں کرتا ہوا واقعی نیم پا گل لگ رہا تھا ۔اس نے ایک ایکسیڈینٹ کے بعد عورت کو بے یارو مدد گار پا یا۔آگے بڑھا تو اس نے آفس سے گھر آتے اپنے مردہ ضمیر کو جنجھوڑ ڈالا مگر گھر پہنچتے ہی ایک سوچ نے اس کا ضمیر پھر سلا دیا کہ"ایسا تو روز ہی ہوتا رہتا ہے ان کی قسمت میں ہی لکھا تھا ایسا " اس کے سا تھ ہی وہ دھیان بٹا نے کے لیے انگلش مووی دیکھنے لگا۔ آسیہ شا ہین چکوال

Umeed by Aasia Shaheen (Poetry)

Image
" سانس گہرا تو دل کھلا رکھیے اپنے سینے کو جاگتا رکھیے اک دِیا دیر تک نہیں جلتا اک دِیا گھر میں دوسرا رکھیے بَر مَلا سچ تو کہہ دیا تم نے سچ کے سننے کا حوصلہ رکھیے صرف بازار سے شکایت کیوں اپنا سِکہ بھی تو کھَرا رکھیے پیار سے دیکھیے محبت کو سر چھپانے کا آسرا رکھیے۔ " آسیہ شا ہین چکوال

Pagal larki by Aasia Shaheen (Poetry)

Image
" پاگل لڑکی !!! کچی عمر کی پاگل لڑکی افسانوں کی دنیا میں اکثر خواب سجایا کرتی تھی جھوٹے سپنے لے کر خود مست سی رہتی تھی عشق محبت پیار سبھی ہے خوب بھروسہ کرتی تھی خواب نگر کی نازک تتلی جس کو اپنا کہتی تھی جس کی خاطر پہروں بیٹ ھی اشک بہایا کرتی تھی اس کی نازک ریشمی پلکیں جس کے خواب تکا کرتی تھیں وہ جس کی یاد میں بیکل بیک رب سے دعائیں کرتی تھی وہ شخص جو اس کا تھا ہی نہیں اس شخص کو مانگا کرتی تھی۔ " آسیہ شا ہین چکوال

Eid by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
" حسین موسم مچل رہا ہے ۔ ہوا کے ٹھنڈے نرم جھونکے دلوں کو راحت سی دے رہے ہیں۔ کو ایسے موسم میں عید آئی کہ دل کا آنگن کھلا ہوا ہے برستے ساون میں ان کی آمد عیدیں میری نہال ہوئیں۔ " آسیہ شا ہین چکوال

December by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
"دسمبر کی سرد شاموں میں اس کی یاد کی نام دستک سی دل کو آ کہ ستا رہی ہے۔ محبتوں کے سبھی خسارے انہی رتوں کے حسیں پلوں میں تھے گم گشتہ سے دل کو آ کے جلا رہے ہیں انہی خیالوں میں رقصاں یہ بھیگا دسمبر اب کی بار بھی گزر ہی جائے گا۔" آسیہ شا ہین چکوال

Aurat nama by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
ایک رانگ مسڈ کال آنے پر  بیوی پر شک کرتے ہوئے انتہا تک پہنچنے والا شوہر  آج اپنی کسی محبوبہ کے ساتھ پایا گیا  تو تلملاتی بیوی کے پوچھنے پر بھڑک کر بولا۔ "مجھے زیادہ سوال جواب پسند نہیں۔" آسیہ شا ہین چکوال

Bhikaran by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
وہ عورت رو رو کے اپنے بھو کے بچے کے لیے دو دھ کے پیسے مانگ رہی تھی۔کو ئی دیتا تو کو ئی گاڑی کا شیشہ چڑ ھا کر آ گے بڑ ھ جاتا۔ اسی کشمکش میں میں وہ عورت خواجہ ادریس کی گا ڑی کے پا س آئی اور اس سے دست سوال دراز کیا۔ خواجہ صاحب بہت پر یشان تھے۔وہ کال پر اپنی بہو کو تسلی دے رہے تھے کہ فکر نہ کرو بہت جلد پتہ چل جائے گا تم مطمئن رہو۔ کال کٹتے ہی مجبور عورت نے دوبارہ سے خواجہ صا حب کو پکارا ۔ "صا حب دیکھو بچہ بھو کا ہے اس کے لیے کچھ دے دو۔" خوا جہ صا حب نے نا گواری سے اس جا نب دیکھا۔اشارہ کھلنے کو تھا کہ خواجہ صا حب کی نگاہ بچے پر ہی ٹکی کی ٹکی رہ گئی۔ نہ جا نے ان کو کیا سو جھی کہ بو لے۔  "آؤ بیٹھو میں تمہیں سا مان خر ید دیتا ہوں۔" عورت چھلانگ لگا کر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد شکاری عورت پو لیس کی تحویل میں تھی اور خواجہ صا حب کا پو تا ان کو مل گیا تھا- آسیہ شا ہین چکوال

Mohabbat by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
" میں اکثر سوچتی ہوں یہ کہاں کھوئی محبت اب۔ سبھی رشتے سبھی ناتے۔ نظر آتے ہیں لٹکے اب انا و حرص کی سولی پہ جو رشتے قدر کے تھے سب ضرورت بن گئے ہیں اب محبت رہ گئی ہے جب محبت ہو گئی ہے بد محبت ہو گئی ہے بد آسیہ شا ہین چکوال

Takrar by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
"اپنے بچے کو سمجھا یا کرو بہت بدتمیز ہو گیاہے۔" "ہاں تمہارا تو جیسے دودھ کا دھلا ہو جیسی ماں ویسا جھگڑالو بیٹا۔" "میرا بیٹا پہلے نہیں چھیڑتا ۔ یہ عادت تمہارے بیٹے میں ہے۔" دیورانی جٹھانی گھنٹہ بھر لڑتی رہیں۔ دونوں اپنے بچے کو سمجھا نا نہ چاہتی تھیں بلکہ ایک دوسرے کا قصور بنائے جا رہی تھیں۔ جینا مرنا ختم کر کے لڑائی کا اختتام ہوا۔ دونوں لال بھبھوکا ہوئیں اپنے پورشنز میں بند ہو گئیں۔۔ ان کے جاتے ہی دونوں بچے دوبارہ گلی ڈنڈا کھیلنے لگے۔ آسیہ شا ہین چکوال

Siyasi siyasi by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
وہ تقریروں میں لوگوں کے مفاد کی باتیں کر کے انہیں اپنے حق میں ووٹ دینے پر اکسا رہے تھے۔ ہم اس علاقے کی روڈز کی مرمت اور گلیاں پکی کروائیں گے۔ پارک میں بنچ اور جھولے اور گھروں کے باہر نالیاں بنوائیں گے ۔ آپ کا مفاد ہمیں ووٹ دیں۔" چودھری صاحب ناظم بھرتی ہوگئے۔ پہلی ہی گرانٹ دس کروڑ کی لی اور اپنی فیملی سمیت امریکہ میں سیٹل ہو گئے۔ پاکستان کے چکر لگاتے رہتے ہیں ، گرانٹ کی رقم بھی تو لینی ہوتی ہے۔ آسیہ شا ہین چکوال

Sakoot by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
صبیحہ اپنے ماضی میں غلطاں جانے کب سے اپنے دل کو کوئلہ کر رہی تھی۔ پرانے قصے سوچ کر کبھی خود کو کوسنے لگتی اور کبھی گزرے دنوں کو یاد کر کے خوش ہوتی اور خود کو مطمئن کرتی۔ اسی لمحے دروازے پر کھٹ پٹ ہوئی تو وہ بھاگتی ہوئی دروازےتک گئی کہ شاید اس کا کوئی اپنا اسے لینے آیا ہے مگر ہر بارپاگل خانے کی نرس بے حسی کا ثبوت دیتے ہوئے اسے دھکا دے کر واپس اپنی جگہ گرا کر چلی جاتی۔ اور وہ پھر سے اپنی سسکیوں کے ہمراہ اپنے سرور کے خیالوں میں غرق ہو جاتی۔  آسیہ شا ہین چکوال

Latahaluqi by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
فجر کی نماز کے بعد وہ دونوں تلاوت میں مشغول تھے۔ فرح نے مسنون دعا راشد کو یاد کرنے کو کہا۔ مگر راشد ٹال مٹول کرنے لگا۔ فرح اسے قائل کرنے کے لیے اس کے فضائل بتانے لگی اس نے اپنی آواز میں دعا پڑھ کر راشد کے موبائل میں ریکارڈ کی اور یاد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بڑے مان اورمحبت سے گویا ہوئی ۔ " یہ دعا ہرروزپرھنا، میں چاہتی ہوں کہ اگر جائیں تو ہم ایک ساتھ جنت میں جائیں۔" جس پر راشد اجنبیت سے بولا۔ "اللہ نہ کرے کہ وہاں بھی تمہارا ساتھ ملے۔" فرح کے اندر بہت زور سے کوئی چیز ٹوٹی تھی۔ آسیہ شا ہین چکوال

Gunahgar by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
"دیکھو میں تم سے شادی نہیں کر سکتا یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ میرا سب کچھ میری پاک دامن بیوی ہے جو یوں ہوٹلوں میں نہیں جاتی،وہ ضرور میری کسی نیکی کا اجر ہے۔" رخشی کا دل بری طرح ٹوٹا تھا۔ ذلت کا یہ عالم ناقابلِ برداشت تھا۔ شادی کا چوتھا مہینہ تھا غالباً، عشاٰء کی نماز کے بعد وہ جلدی گھر آیا۔ راہداری سے گزرتے کمرے سے آتا نسوانی قہقہ سن کر ٹھٹکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "ویسے دوبارہ کب مل رہے ہو؟ پچھلی ملاقات میں تم نے سونے کی چین دینے کا وعدہ کیا تھا۔" نعیم کو ہاتھ میں پکڑی سونے کی چین رینگتا ہوا سانپ محسوس ہوا۔ رخشی کی تضحیک و آنسو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سجدے میں گر کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے لگا۔ آسیہ شا ہین چکوال

Talib ilam by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
اساتذہ بہت محنتی تھے۔ سارا نصاب انگلش میں تھا۔ طلباء اچھے نمبرز لے کر ادارے کا نام روشن کریں اس غرض سے سائینس ، ریاضی اور انگلش وغیرہ پر اساتذہ و طلباٰ کی خوب توجہ تھی۔ طالب علم رٹا ماسٹر تھے ۔ اس وقت وہ سائینس کا کوئی مشکل ٹاپک ازبر کر رہے تھے کہ انسپکشن ٹیم آ گئی ۔ چہارم کلاس کے ایک طالب علم کو کھڑا کر کے پوچھا گیا: "بیٹا ہم مسلمان کس کی امت ہیں؟" تو وی حیرت سے آنکھیں پھیلائے کھڑا رہا اور کافی سوچ کر بولا۔ "اللہ تعالیٰ کی۔" آسیہ شا ہین چکوال

Dagha by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
بھولا اپنے جگری یار جاوید سے لی گئی سم واپس کرنے بازار آیا تو ہر طرف شوربرپا تھا کہ شیدے نائی کا قتل ہو گیا۔ "مگر کس نے کیا قتل۔۔۔۔۔۔۔۔؟" ہر طرف ایک ہی سوال گونج رہا تھا۔ پولیس قاتل کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ جاوید جنازہ پڑھ کر آیا تو کچھ ہی دیر میں پولیس آ دھمکی اور جاوید کو پکڑ کے لے گئی۔ اور اتنا مارا کہ اس کے بدن سے خون رسنے لگا۔ "بتا شیدے نائی کا قتل تو نے کیا۔۔۔۔۔؟" اس کو آخری کال تم نے کی تھی۔" جاوید نے انکار کر دیا تو مزید ٹارچر کیا گیا۔ جاوید کو یک دم یاد آیا کہ اس کی سم تو بھولا قصائی لے کر گیا تھا۔ تفتیش مکمل ہونے پر معلوم ہوا کہ بھولے قصائی نے جاوید کی سم سے شیدے کو بلایا اور واردات کے بعد سم واپس کر دی۔ آسیہ شا ہین چکوال

Laparwahi by Aasia Shaheen (So lafzi Afsana)

Image
دس سالہ موسیٰ محلے کے گندے تالاب میں غوطہ زن مددطلب کر رہا تھا۔ لوگوں نے بمشکل کھینچ کر باہر نکالا،ماں تڑپ تڑپ کر رب سے بچے کی زندگی کی دعا مانگ رہی تھی۔ ڈاکٹر نے طبعی امداد کے بعد اسے گھر بھیج دیا، وہ بال بال بچ گیا۔ پوچھنے پر موسیٰ نے بتایا: "وہ روڈ کنارے چل رہا تھا جس کے ایک طرف تالاب تھا۔ موسیٰ کا پورا دھیان موبائل گیم کی طرف تھا۔ اچانک سامنے سے آنے والی گاڑی کو دیکھ کر وہ اپنا توازن کھو بیٹھا اور تالاب میں جا گرا۔" آسیہ شا ہین چکوال