Uth bandh kamer kiyoun darta hai by Muhammad Abdullah Butt
عنوان: اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے تحریر:محمد عبداللّہ بٹ زندگی ہمیں اکثر ایسے حالات و واقعات سے گزارتی ہے کہ مایوسی میں ہمیں آگے بڑھنے کا کوٸی راستہ نظر نہیں آتا۔کسی بھی ناکامی،جسمانی و جزباتی حادثہ سے ہونے والے نقصان کے بعد بندہ اچھا خاصہ بکھر جاتا ہے۔پھر اس میں اتنی سکت نہیں رہتی کہ وہ مزید منفی رویے برداشت کرے،طعنہ زنی کا سامنا کرے وغیرہ۔ایسے واقعات ہر عام و خاص انسان کے ساتھ زندگی میں ہوتے ہیں۔مایوسی اس قدر ہوتی ہے کہ اُمید کی کوٸی کرن نظر نہیں آتی ۔اصل میں مایوسی کوٸی ہماری اپنی بناٸی ہوٸی نہیں ہوتی یہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول سے لوگوں کے منفی رویوں سے سیکھ لیتے ہیں۔اور جب تک ہم مایوسی سے نکلنے کی شعوری کوشش نہیں کرتے ہم اس رویے پر قاٸم رہتے ہیں ۔کیوں کہ خود کو سمیٹنا ،اکٹھا کرنا اور پھر سے کھڑے ہوجانا ہی اصل بہادری ہے۔ ایک بات تو ذہہن میں بٹھا لیں کہ مشکلات،ناکامیاں ،رکاوٹیں زندگی کا حصّہ ہیں۔اگر ہم یہ سوچیں کہ صرف ہماری زندگی ہی مشکلات سے بھری پڑی ہے تو یہ غلط ہے۔ہر انسان کی زندگی میں مشکلات و مصاٸب ہیں۔ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی کی زندگی میں کم مشکلات ہیں اور کسی کی ...