Ramaz e zeest by Hafiza Khansa Akram
*رمزِ زیست* حافظہ خنساء اکرم اس دنیا ۓ پست و بالا میں حضرت انسان اپنی خواہشات کی پوری آب و تاب سے وارد ہوا ہے۔۔اور اسکی کما حقہ تکمیل کے لیے ہر عناصر استعمال کرنے کی سعی کرتا ہے مگر اکثر اوقات اپنی زیست کی تشنگی کو سیراب کرنے کے لیے کسی ایک ایسی ہستی کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے جو اسکے من کی بے کلی کا سدباب کرسکے۔۔پھر جب اس ہستی کا ادراک نصیب ہوجا ۓ تو اس کے وصل کا عالمِ شوق فرحت و سرور سے بھرپور ہوتا ہے مگر یہ اس انسان کا نصیب ہوتا ہے جو اپنی انا کو لِل ٘ ہ تیاگ دے اور معرفت کا جام نوش کرلے۔۔۔۔۔ اور معرفت ( قرآن کریم)کے کما حقہ حصول کے لیے ہدایت لازمی امر ہے اور یہ محض چاہنے سے نہیں بلکہ اپنے طالب کے گڑکڑا کر دعا کرنے اور ہر پل معبود کے مطابق ڈھلکنے اسکی توجیہات کو ہر بیان پر فوقیت دینے پر ملتی ہے۔۔۔۔ اور ان سب چیزوں کا احاطہ *سورہ فاتحہ* ہے۔۔ جو عابد کی زندگی کا لائحہ عمل مرتب کرتی ہے اور اس کو دنیا کی بلندیوں کو چھونے اور آغوش جنت میں جانے کےلئے ہر سمے خالق دنیا و آخرت سے باہم منسلک رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ہر عرفان ...