Mohabbat amar hoti hai Article by Shamsa Iqbal
""محبت امر ہوتی ھے"" اُسکی آنکھوں میں کسی اور کی محبت کی روشنی پھوٹتی دیکھی تو میں نے اپنی سسکتی بلکتی محبت کو ختم کرنے کا تہیہ کیا۔۔۔ مگر محبت اور دل کی دھڑکن کا سنگھم ایسا تھا کہ میں کوشش کے باوجود وہ ختم نہ کر پائی۔۔۔۔ میں نے اپنی تڑپتی ھوئی محبت کی کسی آہ پر دھیان نہ دیا اور اُسکے ہاتھ پاؤں باندھ کر اُسے دل کے تہہ خانے میں بند کر آئی ۔۔۔ اُسے اندھیروں کے حوالے کر کے خود کو تنہائیوں کے سُپرد کر دیا ۔۔۔۔ اُس کی چینخیں جب کبھی دل کے در و دیوار میں گونج کر کانوں کے پردوں سے ٹکراتی تھیں تو کئی آنسو خاموشی سے پلکوں کی باڑ توڑ کرگالوں پر بہہ نکلتے تھے ۔۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ تھک ہار کر اُس نے صدائیں دینا چھوڑ دیا اور خاموش محبت کا لبادہ اوڑھ لیا ۔۔۔ کبھی کبھار دل کی دھرتی پر نمی محسوس ھوتی تو میں جان جاتی کے آج پھرمحبت کی آنکھ نم ہوئی ھے۔۔۔ میں نے خود کو زمانے کے سامنے تماشہ نہ بنانے کے لیے آنکھون کے آنسو کو گالوں کے بجا ۓ دل پر گرانا شروع کر دیا ۔۔۔۔ یوں میرے آنسو اور محبت کے آنسو گڈمڈ ھو کر رہ جاتے اور میں ان دونو میں فرق نہ کر پاتی ۔۔۔۔ کئی برس گزر...